close
مندرجات کا رخ کریں

ڈیمن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

ڈیمن (خالص اردو: دانو) شریر ما فوق الفطرت ہستی یا وجود کو کہا جاتا ہے۔[1] تاریخی طور پر ڈیمن (آسیب یا بھوت یا شیطانی طاقت یا بد روح) پر یقین یا ان سے متعلق کہانیاں دنیا کی لوک کہانیوں، اساطیر، مذاہب، مخفی علوم اور ادب میں پائی جاتی ہیں۔ ان عقائد کی جھلک فکشن، کامکس، فلموں، ٹیلی ویژن اور ویڈیو گیموں میں بھی نظر آتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈیمن پر ایمان غالباً قدیم سنگی دور تک جاتا ہے جو انسان کے انجانے، پر اسرار اور خوفناک مظاہر سے خوف کے سبب پیدا ہوا۔[2] قدیم مشرقِ قریب کے مذاہب اور ابراہیمی مذاہب میں، بشمول یہودیت کے ابتدائی ادوار[3] اور قرونِ وسطیٰ کی مسیحی علم شیاطین (ڈیمنالوجی) میں، ڈیمن کو مضر اور نقصان دہ روحانی ہستی سمجھا جاتا تھا جو انسانوں میں حلول کر سکتی ہے اور انھیں اپنے قبضے میں لے سکتی ہے۔ ایسے شیطانی قبضے کو ختم کرنے کے لیے جھاڑ پھونک یا جن اتارنے جیسی رسومات (ایگزارسسزم) کا سہارا لیا جاتا تھا۔ یہودی ڈیمنالوجی کے بڑے حصے، جو مسیحیت اور اسلام پر بھی اثر انداز ہوئے، زرتشتیت سے ماخوذ تھے اور ایران کے حکمرانی کے دور میں یہودی روایات میں منتقل ہوئے۔ [4]

بعض روایات میں ڈیمنوں کو ابلیس کا کارندہ یا شیطان کا ما تحت غلام سمجھا جاتا ہے،[2] لیکن کئی مذاہب و عقائد میں وہ آزاد اور خود مختار قوتیں ہیں جو مختلف برائیوں جیسے بیماریوں، آفات اور تباہ کاریوں کا باعث بنتی ہیں۔[5] دوسری طرف مسیحی و اسلامی تناظر میں ڈیمن اکثر ایک ایسے فریم ورک کا حصہ ہیں جہاں وہ خدائی اصول کے مخالف سمجھے جاتے ہیں اور انسانوں کو گناہ اور برائی کی طرف مائل کرنے والے شیطانی وسوسے ڈالتے ہیں۔ [6]

یہ لفظ قدیم یونانی زبان سے ماخوذ ہے۔ قدیم یونانی کے اس لفظ دیمون (δαίμων) کا مطلب روح یا خدائی قوت تھا اور اس میں منفی پہلو شامل نہیں تھے۔[7] افلاطون کی فلسفیانہ تصنیفات میں دیمون کا تصور سقراط کے خدائی الہام کے طور پر آتا ہے۔ تاہم مسیحیت میں یہ متضاد دیمون رفتہ رفتہ برائی اور فساد سے جڑ گئے اور ان کی شکل دشمن قوتوں میں ڈھل گئی جیسا کہ پہلے سے ایرانی عقائد میں موجود تھا۔ [8] مغربی باطنیت اور نشاۃ ثانیہ کا جادو، جو یونانی و رومی جادو، یہودی اساطیر اور مسیحی علم شیاطین (کرسچن ڈیمنالوجی) کے امتزاج سے وجود میں آئے، میں ڈیمن کو ایک ایسی روحانی ہستی سمجھا گیا جسے بلایا اور قابو میں کیا جا سکتا ہے۔

آج بھی کئی مذاہب اور خفیہ روایات میں ڈیمنوں پر یقین پایا جاتا ہے اور لوگ ان سے اس لیے خوفزدہ رہتے ہیں کہ یہ جانداروں میں حلول کر کے انھیں قابو میں کر سکتے ہیں۔[9] جدید مغربی باطنی روایات میں اندرونی ڈیمن کو بعض اوقات انسان کے نفسیاتی مسائل اور اندرونی کشمکش کے استعارے کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Martin, Dale Basil. "When Did Angels Become Demons?" Journal of Biblical Literature, vol. 129, no. 4, 2010, pp. 657–58. ڈیجیٹل آبجیکٹ آئیڈنٹیفائر:10.2307/25765960. Accessed 5 January 2025.
  2. 1 2 Brandon 1970.
  3. Angelini 2021
  4. Boyce 1987; Duchesne-Guillemin 1988.
  5. Erdağı, D. Evil in Turkish Muslim horror film: the demonic in “Semum”. SN Soc Sci 4, 27 (2024). https://doi.org/10.1007/s43545-024-00832-w
  6. Nixey 2018، Chapter 2, "The Battleground of Demons"
  7. Liddell & Scott n.d.
  8. Rees 2012, p. 81
  9. Hans Van Eyghen (14 Apr 2023). The Epistemology of Spirit Beliefs. Routledge Studies in the Philosophy of Religion (بزبان انگریزی). Routledge. DOI:10.4324/9781003281139. ISBN:978-1-00-328113-9.