close
مندرجات کا رخ کریں

کلک مصمتے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

کلک مصمتے (Click Consonants) یا محض کلکس (Clicks)، ایسی تقریری آوازیں ہیں جو جنوبی اور مشرقی افریقہ کی کئی زبانوں میں مصمتوں (consonants) کے طور پر پائی جاتی ہیں۔ انگریزی بولنے والوں کے لیے اس کی واقف مثالیں "tut-tut" (برطانوی ہجے) یا "tsk! tsk!" (امریکی ہجے) ہیں جو ناپسندیدگی یا رحم کا اظہار کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں (یہ تت تت کلک اردو میں بھی مستعمل ہے)(IPA [ǀ])، "tchick!" جو گھوڑے کو ہانکنے کے لیے استعمال ہوتی ہے (IPA [ǁ]) اور "clip-clop!" کی آواز جو بچے زبان سے گھوڑے کے دوڑنے کی نقل کرتے ہوئے نکالتے ہیں (IPA [ǃ])۔ تاہم، انگریزی میں یہ پیرا لسانیاتی (paralinguistic) آوازیں مکمل کلک مصمتے نہیں ہیں، کیونکہ ان میں صرف زبان کا اگلا حصہ شامل ہوتا ہے، جبکہ کلکس کو مصوتوں کے ساتھ مل کر سلیبل بنانے کے لیے زبان کے پچھلے حصے کا استعمال ضروری ہوتا ہے، جو ان میں نہیں ہوتا۔

تشریحی طور پر، کلکس ایسے اوبسٹرونٹس (obstruents) ہیں جن کی ادائیگی منہ میں دو بندشوں (points of contact) کے ساتھ کی جاتی ہے، ایک آگے اور ایک پیچھے کی طرف۔ زبان کی چوسنے والی حرکت (technical terminology میں، کلکس میں ایک لسانی داخلی ایئر سٹریم میکانزم (lingual ingressive airstream mechanism) ہوتا ہے) کے ذریعے بند ہوا کی جیب کو ہلکا (rarefied) کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اگلی بندش کو چھوڑا جاتا ہے[note 1]، جس سے زبان میں ممکنہ طور پر سب سے بلند مصمتے پیدا ہوتے ہیں، حالانکہ ہڈزا (Hadza) اور سانداوے (Sandawe) جیسی کچھ زبانوں میں کلکس زیادہ لطیف بھی ہو سکتے ہیں اور حتیٰ کہ غلطی سے اجیکٹیوز (ejectives)مصمتوں کے طور پر بھی سمجھے جا سکتے ہیں۔

اردو میں کلکس؟

[ترمیم]

اردو زبان میں فونیمیاتی (phonemic)طور پر کلک آوازیں موجود نہیں ہیں۔ کلکس وہ مخصوص تقریری آوازیں ہیں جومنہ میں زبان کو ایک مخصوص حرکت دے کر ایک خاص قسم کا "پاپ" یا "چٹخارے" کی آواز پیدا کر کے ادا کی جاتی ہیں۔ یہ آوازیں افریقہ کی چند زبانوں کی خصوصیت ہیں، خاص طور پر جنوبی افریقہ کی خوئسان (Khoisan) زبانوں میں۔

انگریزی میں جو مثالیں دی گئی تھیں (جیسے "tsk! tsk!" یا گھوڑے کو ہانکنے کی آواز)، یہ پیرا لسانیاتی آوازیں (paralinguistic sounds) ہیں، یعنی یہ زبان کا باقاعدہ حصہ نہیں ہوتیں اور ان کا استعمال معنی کی بجائے جذبات یا رد عمل کے اظہار کے لیے ہوتا ہے۔ اردو میں بھی (انگریزی اور دیگر زبانوں کی طرح)اس طرح کی غیر لسانیاتی آوازیں پائی جاتی ہیں، لیکن یہ لسانیاتی فونیم نہیں ہیں:

اردو میں ایسی آوازوں کی چند مثالیں جو کلکس جیسی لیکن فونیمک نہیں ہیں:

  1. "چُک چُک" یا "چَک چَک" کی آواز (To Spur on a Horse):
    • جب ہم گھوڑے یا کسی جانور کو چلانے یا تیز کرنے کے لیے زبان کو تالو سے ہٹا کر ایک مخصوص "چَک" کی آواز نکالتے ہیں۔ یہ انگریزی کے "tchick!" کے مشابہ ہے۔
    • یہ آواز زبان کی نوک کو تالو سے لگا کر، پھر اسے کھینچ کر خلا پیدا کرنے اور پھر اچانک چھوڑنے سے پیدا ہوتی ہے۔
  2. "تف تف" یا "چُھو چھُو/شو شو" کی آواز (To Express Disapproval or Drive Away):
    • ناپسندیدگی یا کسی چیز کو (جیسے کسی جانور کو) دور بھگانے کے لیے زبان اور ہونٹوں سے ایک خاص "تف" یا "چھو/شو" کی سی آواز نکالتے ہیں۔ یہ انگریزی کے "tsk! tsk!" کے قریب ہے۔
  3. بوسے کی آواز
    • ہوائی بوسہ دینے کے لیے بوسے کی آواز داخلی دولبی کلک (bilabial lingual ingressive click)
  • یہ تمام آوازیں اردو زبان کے باقاعدہ فونیمز (phonemes) نہیں ہیں۔ یعنی ان آوازوں کی تبدیلی سے اردو میں الفاظ کے معنی نہیں بدلتے، جیسے 'ب' کو 'پ' سے بدلنے پر 'بال' اور 'پال' کے معنی بدل جاتے ہیں۔
  • یہ آوازیں عام طور پر جذبات، اشارے یا کسی خاص عمل (جیسے جانوروں کو ہانکنا) کا اظہار کرتی ہیں اور اردو زبان کے گرامر یا الفاظ کا حصہ نہیں ہیں۔ یہ بنیادی طور پر پیرا لسانیاتی (paralinguistic) یا علامتی (onomatopoeic) نوعیت کی ہوتی ہیں۔

لہٰذا، اگرچہ اردو بولنے والے کچھ ایسی آوازیں نکالتے ہیں جو کلکس سے مشابہت رکھتی ہیں، لیکن لسانیاتی طور پر اردو میں کلک مصمتے (click consonants) بطور فونیم موجود نہیں ہیں۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]

 

نوٹ

[ترمیم]
  1. This is the case for all clicks used as consonants in words. Paralinguistically, however, there are other methods of making clicks: under the tongue or as above but by releasing the rear occlusion first. See #Places of articulation.

حوالہ جات

[ترمیم]

کتب خانہ

[ترمیم]
  • Peter Ladefoged (1968)۔ A phonetic study of West African languages: An auditory-instrumental survey (2nd ایڈیشن)۔ Cambridge University Press۔ ISBN:0-521-06963-7
  • Peter Ladefoged [انگریزی میں]; Ian Maddieson [انگریزی میں] (1996). The Sounds of the World's Languages (بزبان انگریزی). Oxford: Blackwell. ISBN:0-631-19815-6.
  • امانڈا ملر، لیوی نمسیب، خلیل اسکروس۔ 2003. زبان کلک کی اقسام میں جسمانی سکڑنے کے فرق۔
  • امندا ملر، 2011۔ "کلکس کی نمائندگی"۔ Oostendorp et al. eds میں۔، دی بلیک ویل کمپینین ٹو فونولوجی۔
  • ٹریل، انتھونی اور رینر ووسن۔ 1997. خویسان زبانوں میں آواز میں تبدیلی: کلک لاس اور کلک ریپلیسمنٹ پر نیا ڈیٹا J افریقی زبانیں اور لسانیات 18:21-56

بیرونی روابط

[ترمیم]
  • کلک زبان کے لنکس اور آڈیو نمونوں کا مجموعہ۔
  • Hartmut Traunmüller (2003) "Clicks and the Idea of a Human Protolanguage"، Phonum 9:1-4 (Umeå University, Department of Philosophy and Languistics) محفوظ شدہ جولائی 22,2012 at the Wayback Machine
  • کلکس کی درجہ بندیآرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ esciencenews.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)